حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، . أَنَّ امْرَأَةً، أَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَتْ إِنَّ أُمِّي تُوُفِّيَتْ وَعَلَيْهَا نَذْرُ صِيَامٍ فَتُوُفِّيَتْ قَبْلَ أَنْ تَقْضِيَهُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ “ لِيَصُمْ عَنْهَا الْوَلِيُّ ” .
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نے مقام بوانہ میں قربانی کرنے کی نذر مانی ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تمہارے دل میں جاہلیت کا کوئی اعتقاد باقی ہے “ ؟ اس نے کہا : نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اپنی نذر پوری کرو “ ۱؎ ۔