حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ “ إِنَّمَا الْيَمِينُ عَلَى نِيَّةِ الْمُسْتَحْلِفِ ” .
حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہمسلمانوں میں سے ایک شخص نے خواب میں دیکھا کہ وہ اہل کتاب کے ایک شخص سے ملا تو اس نے کہا : تم کیا ہی اچھے لوگ ہوتے اگر شرک نہ کرتے ، تم کہتے ہو : جو اللہ چاہے اور محمد چاہیں ، اس مسلمان نے یہ خواب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ کی قسم ! میں اس بات کو جانتا ہوں ( کہ ایسا کہنے میں شرک کی بو ہے ) ۔ لہٰذا تم «ما شاء الله ثم شاء محمد» ” جو اللہ چاہے پھر محمد چاہیں “ کہو ۱؎ ۔