۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

0

Markazi Anjuman Khuddam ul Quran Lahore

0Hadith Reference

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ طُلِّقَتْ خَالَتِي فَأَرَادَتْ أَنْ تَجُدَّ نَخْلَهَا فَزَجَرَهَا رَجُلٌ أَنْ تَخْرُجَ إِلَيْهِ فَأَتَتِ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ ‏ “‏ بَلَى فَجُدِّي نَخْلَكِ فَإِنَّكِ عَسَى أَنْ تَصَدَّقِي أَوْ تَفْعَلِي مَعْرُوفًا ‏”‏ ‏.‏

جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہمیری خالہ کو طلاق دے دی گئی ، پھر انہوں نے اپنی کھجوریں توڑنے کا ارادہ کیا ، تو ایک شخص نے انہیں گھر سے نکل کر باغ جانے پر ڈانٹا تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ٹھیک ہے ، تم اپنی کھجوریں توڑو ، ممکن ہے تم صدقہ کرو یا کوئی کار خیر انجام دو “ ۱؎ ۔

It was narrated that Jabir bin ‘Abdullah said:
“My maternal aunt was divorced, and she wanted to collect the harvest from her date-palm trees. A man rebuked her for going out to the trees. She went to the Prophet (ﷺ), who said: ‘No, go and collect the harvest from your trees, for perhaps you will give some in charity or do a good deed with it.'”

Scroll to Top