۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

0

Markazi Anjuman Khuddam ul Quran Lahore

0Hadith Reference

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبَاءَةُ بْنُ كُلَيْبٍ اللَّيْثِيُّ أَبُو غَسَّانَ، عَنْ جُوَيْرِيَةَ بْنِ أَسْمَاءَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، ‏.‏ أَنَّ رَجُلاً، مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ أَتَى النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ عَلَى فِرَاشِي غُلاَمًا أَسْوَدَ وَإِنَّا أَهْلُ بَيْتٍ لَمْ يَكُنْ فِينَا أَسْوَدُ قَطُّ ‏.‏ قَالَ ‏”‏ هَلْ لَكَ مِنَ إِبِلٍ ‏”‏ ‏.‏ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ ‏”‏ فَمَا أَلْوَانُهَا ‏”‏ ‏.‏ قَالَ حُمْرٌ ‏.‏ قَالَ ‏”‏ هَلْ فِيهَا أَسْوَدُ ‏”‏ ‏.‏ قَالَ لاَ ‏.‏ قَالَ ‏”‏ فَهَلْ فِيهَا أَوْرَقُ ‏”‏ ‏.‏ قَالَ نَعَمْ ‏.‏ قَالَ ‏”‏ فَأَنَّى كَانَ ذَلِكَ ‏”‏ ‏.‏ قَالَ عَسَى أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ ‏.‏ قَالَ ‏”‏ فَلَعَلَّ ابْنَكَ هَذَا نَزَعَهُ عِرْقٌ ‏”‏ ‏.‏

ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہعبد بن زمعہ اور سعد رضی اللہ عنہما دونوں زمعہ کی لونڈی کے بچے کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جھگڑا لے گئے ، سعد رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کے رسول ! میرے بھائی ( عتبہ بن ابی وقاص ) نے مجھے وصیت کی ہے کہ جب میں مکہ جاؤں تو زمعہ کی لونڈی کے بچے کو دیکھوں ، اور اس کو لے لوں ، اور عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ نے کہا : وہ میرا بھائی اور میرے باپ کی لونڈی کا بیٹا ہے ، میرے باپ کے بستر پہ پیدا ہوا ہے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بچہ کی مشابہت عتبہ سے پائی تو فرمایا : ” عبد بن زمعہ ! وہ بچہ تمہارا بھائی ہے ( گرچہ مشابہت سے عتبہ کا معلوم ہوتا ہے ) بچہ صاحب فراش ( شوہر یا مالک ) کا ہوتا ہے ۱؎ ، سودہ تم اس سے پردہ کرو “ ۲؎ ۔

It was narrated from Ibn ‘Umar that:
a man frorn the desert people came to the Prophet and said: “O Messenger of Allah, my wife has given birth on my bed to a black boy, and there are no black people among my family.” He said: “Do you have camels?” He said: “Yes.” He said: “What color are they?” He said: “Red.” He said: are there any black ones among them?” He said, “No.” He said: “Are there any grey ones among them?” He said- “Yes.” He said “How is that?” He said: “Perhaps it is hereditary.” He said: “Perhaps (the color of) this son of yours is also hereditary.”

Scroll to Top