حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ شَيْبَانَ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَهْمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ “ مِنَ الْغَيْرَةِ مَا يُحِبُّ اللَّهُ وَمِنْهَا مَا يَكْرَهُ اللَّهُ فَأَمَّا مَا يُحِبُّ فَالْغَيْرَةُ فِي الرِّيبَةِ وَأَمَّا مَا يَكْرَهُ فَالْغَيْرَةُ فِي غَيْرِ رِيبَةٍ ” .
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہمیں نے جتنی غیرت خدیجہ رضی اللہ عنہا پر کی اتنی کسی عورت پر نہیں کی کیونکہ میں دیکھتی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر ان کا ذکر کیا کرتے تھے ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رب نے آپ کو حکم دیا کہ انہیں جنت میں موتیوں کے ایک مکان کی بشارت دے دیں ، یعنی سونے کے مکان کی ، یہ تشریح ابن ماجہ نے کی ہے “ ۱؎ ۔