حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ، عَبَّادُ بْنُ الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلاَلٍ، حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أُمِّ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ الْمَدِينَةَ وَهُوَ عَرُوسٌ بِصَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَىٍّ جِئْنَ نِسَاءُ الأَنْصَارِ فَأَخْبَرْنَ عَنْهَا . قَالَتْ فَتَنَكَّرْتُ وَتَنَقَّبْتُ فَذَهَبْتُ فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ إِلَى عَيْنِي فَعَرَفَنِي . قَالَتْ فَالْتَفَتَ فَأَسْرَعْتُ الْمَشْىَ فَأَدْرَكَنِي فَاحْتَضَنَنِي فَقَالَ “ كَيْفَ رَأَيْتِ ” . قَالَتْ قُلْتُ أَرْسِلْ يَهُودِيَّةٌ وَسْطَ يَهُودِيَّاتٍ .
عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : مجھے معلوم ہونے سے پہلے زینب بنت جحش رضی اللہ عنہا میرے گھر میں بغیر اجازت کے آ گئیں ، وہ غصہ میں تھیں ، کہنے لگیں : اللہ کے رسول ! کیا آپ کے لیے بس یہی کافی ہے کہ ابوبکر کی بیٹی اپنی آغوش آپ کے لیے وا کر دے ؟ اس کے بعد وہ میری طرف متوجہ ہوئیں ، میں نے ان سے منہ موڑ لیا ، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” تو بھی اس کی خبر لے اور اس پر اپنی برتری دکھا “ تو میں ان کی طرف پلٹی ، اور میں نے ان کا جواب دیا ، یہاں تک کہ میں نے دیکھا کہ ان کا تھوک ان کے منہ میں سوکھ گیا ، اور مجھے کوئی جواب نہ دے سکیں ، پھر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا تو آپ کا چہرہ کھل اٹھا تھا “ ۱؎ ۔