حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ مُوسَى بْنَ جُبَيْرٍ، حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحُبَابِ الأَنْصَارِيَّ حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أُنَيْسٍ حَدَّثَهُ أَنَّهُ، تَذَاكَرَ هُوَ وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَوْمًا الصَّدَقَةَ فَقَالَ عُمَرُ أَلَمْ تَسْمَعْ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ حِينَ يَذْكُرُ غُلُولَ الصَّدَقَةِ “ أَنَّهُ مَنْ غَلَّ مِنْهَا بَعِيرًا أَوْ شَاةً أُتِيَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَحْمِلُهُ ” . قَالَ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُنَيْسٍ بَلَى .
عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہانہوں نے اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک دن زکاۃ کے بارے میں آپس میں بات کی تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جس وقت آپ زکاۃ میں خیانت کا ذکر کر رہے تھے یہ نہیں سنا : ” جس نے زکاۃ کے مال سے ایک اونٹ یا ایک بکری چرا لی تو وہ قیامت کے دن اسے اٹھائے ہوئے لے کر آئے گا “ ؟ عبداللہ بن انیس رضی اللہ عنہ نے کہا : کیوں نہیں ( ہاں ، میں نے سنا ہے ) ۔