حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ أَسْلَمَ، مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَلَحِقَهُ أَعْرَابِيٌّ فَقَالَ لَهُ قَوْلُ اللَّهِ {وَالَّذِينَ يَكْنِزُونَ الذَّهَبَ وَالْفِضَّةَ وَلاَ يُنْفِقُونَهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ} قَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ مَنْ كَنَزَهَا فَلَمْ يُؤَدِّ زَكَاتَهَا فَوَيْلٌ لَهُ إِنَّمَا كَانَ هَذَا قَبْلَ أَنْ تُنْزَلَ الزَّكَاةُ فَلَمَّا أُنْزِلَتْ جَعَلَهَا اللَّهُ طَهُورًا لِلأَمْوَالِ . ثُمَّ الْتَفَتَ فَقَالَ مَا أُبَالِي لَوْ كَانَ لِي أُحُدٌ ذَهَبًا أَعْلَمُ عَدَدَهُ وَأُزَكِّيهِ وَأَعْمَلُ فِيهِ بِطَاعَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ .
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے غلام خالد بن اسلم کہتے ہیں کہمیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ جا رہا تھا کہ ان سے ایک اعرابی ( دیہاتی ) ملا ، اور آیت کریمہ : «والذين يكنزون الذهب والفضة ولا ينفقونها في سبيل الله» ( سورة التوبة : 34 ) ” جو لوگ سونے اور چاندی کو خزانہ بنا کر رکھتے ہیں ، اور اسے اللہ کی راہ میں صرف نہیں کرتے “ کے متعلق ان سے پوچھنے لگا کہ اس سے کون لوگ مراد ہیں ؟ تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا : جس نے اسے خزانہ بنا کر رکھا ، اور اس کی زکاۃ ادا نہیں کی ، تو اس کے لیے ہلاکت ہے ، یہ آیت زکاۃ کا حکم اترنے سے پہلے کی ہے ، پھر جب زکاۃ کا حکم اترا تو اللہ تعالیٰ نے اسے مالوں کی پاکی کا ذریعہ بنا دیا ، پھر وہ دوسری طرف متوجہ ہوئے اور بولے : اگر میرے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو جس کی تعداد مجھے معلوم ہو ، اور اس کی زکاۃ ادا کرتا رہوں ، اور اللہ کے حکم کے مطابق اس کو استعمال کرتا رہوں ، تو مجھے کوئی پروا نہیں ہے ۱؎ ۔