حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنِي حَوْشَبُ بْنُ عَقِيلٍ، حَدَّثَنِي مَهْدِيٌّ الْعَبْدِيُّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ دَخَلْتُ عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ فِي بَيْتِهِ فَسَأَلْتُهُ عَنْ صَوْمِ، يَوْمِ عَرَفَةَ بِعَرَفَاتٍ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ بِعَرَفَاتٍ .
محمد بن صیفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے عاشوراء کے دن فرمایا : ” آج تم میں سے کسی نے کھانا کھایا ہے “ ؟ ہم نے عرض کیا : بعض نے کھایا ہے اور بعض نے نہیں کھایا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے کھایا ہے اور جس نے نہیں کھایا ہے دونوں شام تک کچھ نہ کھائیں ، اور «عروض» ۱؎ والوں کو کہلا بھیجو کہ وہ بھی باقی دن روزہ کی حالت میں پورا کریں “ ۲؎ ۔ راوی نے کہا اہل عروض سے آپ مدینہ کے آس پاس کے دیہات کو مراد لیتے تھے ۔