حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ شَيْبَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ سَأَلْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَأَنَا أَطُوفُ، بِالْبَيْتِ أَنَهَى النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ عَنْ صِيَامِ يَوْمِ الْجُمُعَةِ قَالَ نَعَمْ وَرَبِّ هَذَا الْبَيْتِ .
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ان دنوں یعنی ذی الحجہ کے دس دنوں سے بڑھ کر کوئی بھی دن ایسا نہیں کہ جس میں نیک عمل کرنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان دنوں کے نیک عمل سے زیادہ پسندیدہ ہو “ ، لوگوں نے پوچھا : اللہ کے رسول ! اللہ کے راستے میں جہاد کرنا بھی نہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ کے راستے میں جہاد کرنا بھی اتنا پسند نہیں ، مگر جو شخص اپنی جان اور مال لے کر نکلے ، اور پھر لوٹ کر نہ آئے “ ۔