حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ لاَ يُفْطِرُ وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ لاَ يَصُومُ . وَمَا صَامَ شَهْرًا مُتَتَابِعًا إِلاَّ رَمَضَانَ مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ .
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہعمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کے رسول ! جو شخص دو دن روزہ رکھے اور ایک دن افطار کرے وہ کیسا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بھلا ایسا کرنے کی کسی میں طاقت ہے ؟ انہوں نے کہا : وہ شخص کیسا ہے جو ایک دن روزہ رکھے اور ایک دن افطار کرے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یہ داود علیہ السلام کا روزہ ہے ، پھر انہوں نے کہا : وہ شخص کیسا ہے جو ایک دن روزہ رکھے اور دو دن افطار کرے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میری تمنا ہے کہ مجھے اس کی طاقت ہوتی “ ۱؎ ۔