حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَبِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صِيَامِ النَّبِيِّ، ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَقَالَتْ: كَانَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ قَدْ صَامَ . وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ: قَدْ أَفْطَرَ. وَلَمْ أَرَهُ صَامَ مِنْ شَهْرٍ قَطُّ أَكْثَرَ مِنْ صِيَامِهِ مِنْ شَعْبَانَ. كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ كُلَّهُ. كَانَ يَصُومُ شَعْبَانَ إِلاَّ قَلِيلاً .
عمرو بن اوس کہتے ہیں کہمیں نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کو کہتے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کے نزدیک روزوں میں سب سے زیادہ پسندیدہ روزہ داود علیہ السلام کا روزہ ہے ، وہ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن نہیں رکھتے تھے ، اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ نماز داود علیہ السلام کی نماز ہے ، آپ آدھی رات سوتے تھے ، پھر تہائی رات تک نماز پڑھتے تھے ، پھر رات کے چھٹے حصہ میں سو رہتے “ ۔