حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: تَسَحَّرْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ هُوَ النَّهَارُ إِلاَّ أَنَّ الشَّمْسَ لَمْ تَطْلُعْ .[ قالَ ابُو إسحاق: حديث حُذَيْفَةَ مَنْسوخٌ لَيْسَ بشَيْء.]
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے کسی کو بلال کی اذان اس کی سحری سے نہ روکے ، وہ اذان اس لیے دیتے ہیں کہ تم میں سونے والا ( سحری کھانے کے لیے ) جاگ جائے ، اور قیام ( یعنی تہجد پڑھنے ) والا اپنے گھر چلا جائے ، اور فجر اس طرح سے نہیں ہے ، بلکہ اس طرح سے ہے کہ وہ آسمان کے کنارے عرض ( چوڑان ) میں ظاہر ہوتی ہے “ ۱؎ ۔
[(One of the narrators) Abu Ishaq said: “The Hadith of Hudhaifah is abrogated and does not mean anything.”]