حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالاَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أَبِي هِلاَلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَوَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، – رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَبْدِ الأَشْهَلِ وَقَالَ: عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ مِنْ بَنِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ – قَالَ: أَغَارَتْ عَلَيْنَا خَيْلُ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ وَهُوَ يَتَغَدَّى فَقَالَ: ” ادْنُ فَكُلْ ” . قُلْتُ: إِنِّي صَائِمٌ . قَالَ: ” اجْلِسْ أُحَدِّثْكَ عَنِ الصَّوْمِ أَوِ الصِّيَامِ . إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَضَعَ عَنِ الْمُسَافِرِ شَطْرَ الصَّلاَةِ وَعَنِ الْمُسَافِرِ وَالْحَامِلِ وَالْمُرْضِعِ الصَّوْمَ أَوِ الصِّيَامَ ” . وَاللَّهِ لَقَدْ قَالَهُمَا النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ كِلْتَاهُمَا أَوْ إِحْدَاهُمَا فَيَا لَهْفَ نَفْسِي فَهَلاَّ كُنْتُ طَعِمْتُ مِنْ طَعَامِ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ .
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہقبیلہ بنی عبدالاشہل کے اور علی بن محمد کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی عبداللہ بن کعب کے ایک شخص نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوار ہمارے اوپر حملہ آور ہوئے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور آپ دوپہر کا کھانا تناول فرما رہے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قریب آ جاؤ اور کھاؤ “ میں نے کہا : میں روزے سے ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیٹھو میں تمہیں روزے کے سلسلے میں بتاتا ہوں “ اللہ تعالیٰ نے مسافر سے آدھی نماز معاف کر دی ہے ، اور مسافر ، حاملہ اور مرضعہ ( دودھ پلانے والی ) سے روزہ معاف کر دیا ہے ، قسم اللہ کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دونوں باتیں فرمائیں ، یا ایک بات فرمائی ، اب میں اپنے اوپر افسوس کرتا ہوں کہ میں نے آپ کے کھانے میں سے کیوں نہیں کھایا ۱؎ ۔