حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلاَلٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَيْمَنَ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَىٍّ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ ” أَكْثِرُوا الصَّلاَةَ عَلَىَّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَإِنَّهُ مَشْهُودٌ تَشْهَدُهُ الْمَلاَئِكَةُ وَإِنَّ أَحَدًا لَنْ يُصَلِّيَ عَلَىَّ إِلاَّ عُرِضَتْ عَلَىَّ صَلاَتُهُ حَتَّى يَفْرُغَ مِنْهَا ” . قَالَ قُلْتُ وَبَعْدَ الْمَوْتِ قَالَ ” وَبَعْدَ الْمَوْتِ إِنَّ اللَّهَ حَرَّمَ عَلَى الأَرْضِ أَنْ تَأْكُلَ أَجْسَادَ الأَنْبِيَاءِ ” . فَنَبِيُّ اللَّهِ حَىٌّ يُرْزَقُ .
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک جنازہ میں تھے ، عمر رضی اللہ عنہ نے ایک عورت کو ( روتے ) دیکھا تو اس پر چلائے ، یہ دیکھ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” عمر ! اسے چھوڑ دو ، اس لیے کہ آنکھ رونے والی ہے ، جان مصیبت میں ہے ، اور ( صدمہ کا ) زمانہ قریب ہے “ ۱؎ ۔ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی معنی کی حدیث آئی ہے ۔