حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ الْعُثْمَانِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ يَقُولُ ” مَا مِنْ نَبِيٍّ يَمْرَضُ إِلاَّ خُيِّرَ بَيْنَ الدُّنْيَا وَالآخِرَةِ ” . قَالَتْ فَلَمَّا كَانَ مَرَضُهُ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ أَخَذَتْهُ بُحَّةٌ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ ” مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ ” . فَعَلِمْتُ أَنَّهُ خُيِّرَ .
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں اکٹھا ہوئیں اور ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہ رہی ، اتنے میں فاطمہ رضی اللہ عنہا آئیں ، ان کی چال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چال کی طرح تھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میری بیٹی ! خوش آمدید “ پھر انہیں اپنے بائیں طرف بٹھایا ، اور چپکے سے کوئی بات کہی تو وہ رونے لگیں ، پھر چپکے سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی بات کہی تو وہ ہنسنے لگیں ، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : میں نے ان سے پوچھا کہ تم کیوں روئیں ؟ تو انہوں نے کہا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے راز کو فاش نہیں کرنا چاہتی ، میں نے کہا : آج جیسی خوشی جو غم سے قریب تر ہو میں نے کبھی نہیں دیکھی ، جب فاطمہ روئیں تو میں نے ان سے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی خاص بات تم سے فرمائی ہے ، جو ہم سے نہیں کہی کہ تم رو رہی ہو ، اور میں نے پوچھا : آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ؟ انہوں نے یہی جواب دیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا راز فاش کرنے والی نہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے بعد میں نے ان سے پھر پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا تھا ؟ تو انہوں نے کہا کہ پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ جبرائیل مجھ سے ہر سال ایک بار قرآن کا دور کراتے تھے اب کی سال دو بار دور کرایا ، تو میں سمجھتا ہوں کہ میری موت کا وقت قریب آ گیا ہے ، اور تم میرے رشتہ داروں میں سب سے پہلے مجھ سے ملو گی ، اور میں تمہارے لیے کیا ہی اچھا پیش رو ہوں “ یہ سن کر میں روئی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آہستہ سے مجھ سے فرمایا : ” کیا تم اس بات سے خوش نہیں ہو کہ تم مومنوں کی عورتوں کی یا اس امت کی عورتوں کی سردار ہو گی ، یہ سن کر میں ہنسی ۱؎ “ ۔