حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْمُهَاجِرِ بْنِ قُنْفُذٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ امْرَأَةً، سَوْدَاءَ مَاتَتْ و لَمْ يُؤْذَنْ بِهَا النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ فَأُخْبِرَ بِذَلِكَ فَقَالَ ” هَلاَّ آذَنْتُمُونِي بِهَا ” . ثُمَّ قَالَ لأَصْحَابِهِ ” صُفُّوا عَلَيْهَا ” . فَصَلَّى عَلَيْهَا .
عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہایک کالی عورت کا انتقال ہو گیا ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے انتقال کی خبر نہیں دی گئی ، پھر جب آپ کو خبر ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم لوگوں نے مجھے اس کے انتقال کی خبر کیوں نہیں دی “ ؟ اس کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے کہا : اس پہ صف باندھو ، پھر آپ نے اس عورت کی نماز جنازہ پڑھی ۔