حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ رَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مِنَ الْبَقِيعِ فَوَجَدَنِي وَأَنَا أَجِدُ صُدَاعًا فِي رَأْسِي وَأَنَا أَقُولُ وَارَأْسَاهُ فَقَالَ ” بَلْ أَنَا يَا عَائِشَةُ وَارَأْسَاهُ ” . ثُمَّ قَالَ ” مَا ضَرَّكِ لَوْ مِتِّ قَبْلِي فَقُمْتُ عَلَيْكِ فَغَسَّلْتُكِ وَكَفَّنْتُكِ وَصَلَّيْتُ عَلَيْكِ وَدَفَنْتُكِ ” .
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بقیع سے لوٹے تو مجھے اس حال میں پایا کہ میرے سر میں درد ہو رہا تھا ، اور میں کہہ رہی تھی : ” ہائے سر ! “ ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بلکہ اے عائشہ ! میں ہائے سر کہتا ہوں “ ۱؎ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہارا کیا نقصان ہو گا اگر تم مجھ سے پہلے مرو گی تو تمہارے سارے کام میں انجام دوں گا ، تمہیں غسل دلاؤں گا ، تمہاری تکفین کروں گا ، تمہاری نماز جنازہ پڑھاؤں گا ، اور تمہیں دفن کروں گا “ ۔