حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ صَلَّيْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ الْمَغْرِبَ فَرَجَعَ مَنْ رَجَعَ وَعَقَّبَ مَنْ عَقَّبَ فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ مُسْرِعًا قَدْ حَفَزَهُ النَّفَسُ و قَدْ حَسَرَ عَنْ رُكْبَتَيْهِ فَقَالَ “ أَبْشِرُوا هَذَا رَبُّكُمْ قَدْ فَتَحَ بَابًا مِنْ أَبْوَابِ السَّمَاءِ يُبَاهِي بِكُمُ الْمَلاَئِكَةَ يَقُولُ انْظُرُوا إِلَى عِبَادِي قَدْ قَضَوْا فَرِيضَةً وَهُمْ يَنْتَظِرُونَ أُخْرَى ” .
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھی ، کچھ لوگ واپس چلے گئے ، اور کچھ لوگ پیچھے مسجد میں رہ گئے ، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تیزی کے ساتھ آئے ، آپ کا سانس پھول رہا تھا ، اور آپ کے دونوں گھٹنے کھلے ہوئے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” خوش ہو جاؤ ! یہ تمہارا رب ہے ، اس نے آسمان کے دروازوں میں سے ایک دروازہ کھول دیا ، اور تمہارا ذکر فرشتوں سے فخریہ فرما رہا ہے اور کہہ رہا ہے : فرشتو ! میرے بندوں کو دیکھو ، ان لوگوں نے ایک فریضے کی ادائیگی کر لی ہے ، اور دوسرے کا انتظار کر رہے ہیں “ ۱؎ ۔