حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي رَزِينٍ، عَنِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ، قَالَ قُلْتُ لِلنَّبِيِّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ إِنِّي كَبِيرٌ ضَرِيرٌ شَاسِعُ الدَّارِ وَلَيْسَ لِي قَائِدٌ يُلاَوِمُنِي فَهَلْ تَجِدُ لِي مِنْ رُخْصَةٍ قَالَ ” هَلْ تَسْمَعُ النِّدَاءَ ” . قُلْتُ نَعَمْ . قَالَ ” مَا أَجِدُ لَكَ رُخْصَةً ” .
عبداللہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہمیں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا : میں بوڑھا اور نابینا ہوں ، میرا گھر دور ہے اور مجھے مسجد تک لانے والا میرے مناسب حال کوئی آدمی بھی نہیں ہے ، تو کیا آپ میرے لیے ( جماعت سے غیر حاضری کی ) کوئی رخصت پاتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تم اذان سنتے ہو ؟ “ ، میں نے کہا : جی ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں تمہارے لیے کوئی رخصت نہیں پاتا “ ۱؎ ۔