حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى، مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ أَرَادَتْ بَنُو سَلِمَةَ أَنْ يَتَحَوَّلُوا، مِنْ دِيَارِهِمْ إِلَى قُرْبِ الْمَسْجِدِ فَكَرِهَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ أَنْ يُعْرُوا الْمَدِينَةَ فَقَالَ “ يَا بَنِي سَلِمَةَ أَلاَ تَحْتَسِبُونَ آثَارَكُمْ ” . فَأَقَامُوا .
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہبنو سلمہ نے ارادہ کیا کہ وہ اپنے پرانے گھروں کو جو مسجد نبوی سے فاصلہ پر تھے چھوڑ کر مسجد نبوی کے قریب آ رہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی ویرانی کو مناسب نہ سمجھا ، اور فرمایا : ” بنو سلمہ ! کیا تم اپنے نشانات قدم میں ثواب کی نیت نہیں رکھتے ؟ “ ، یہ سنا تو وہ وہیں رہے جہاں تھے ۔