حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلاَنَ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ح وَحَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَالَ “ لاَ تَغْلِبَنَّكُمُ الأَعْرَابُ عَلَى اسْمِ صَلاَتِكُمْ – زَادَ ابْنُ حَرْمَلَةَ – فَإِنَّمَا هِيَ الْعِشَاءُ وَإِنَّمَا يَقُولُونَ الْعَتَمَةُ لإِعْتَامِهِمْ بِالإِبِلِ ” .
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا : کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انگوٹھی بنوائی تھی ؟ انہوں نے کہا : جی ہاں ، ایک رات آپ نے عشاء کی نماز آدھی رات کے قریب مؤخر کی ، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو ہماری جانب متوجہ ہو کر فرمایا : ” اور لوگ نماز پڑھ کر سو گئے ، اور تم لوگ برابر نماز ہی میں رہے جب تک نماز کا انتظار کرتے رہے “ ، انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : گویا میں آپ کی انگوٹھی کی چمک دیکھ رہا ہوں ۔اوپر والی حدیث کے مثل مروی ہے ۔