حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، قَالَ سَمِعْتُ حَمَّادَ بْنَ سَلَمَةَ، يُفَسِّرُ حَدِيثَ ” كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ ” . قَالَ هَذَا عِنْدَنَا حَيْثُ أَخَذَ اللَّهُ عَلَيْهِمُ الْعَهْدَ فِي أَصْلاَبِ آبَائِهِمْ حَيْثُ قَالَ { أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى } .
حجاج بن منہال کہتے کہمیں نے حماد بن سلمہ کو «كل مولود يولد على الفطرة» ” ہر بچہ فطرت ( اسلام ) پر پیدا ہوتا ہے “ ۱؎ کی تفسیر کرتے سنا ، آپ نے کہا : ہمارے نزدیک اس سے مراد وہ عہد ہے جو اللہ نے ان سے اسی وقت لے لیا تھا ، جب وہ اپنے آباء کی پشتوں میں تھے ، اللہ نے ان سے پوچھا تھا : «ألست بربكم قالوا بلى» ” کیا میں تمہارا رب ( معبود ) نہیں ہوں ؟ “ تو انہوں نے کہا تھا : کیوں نہیں ، ضرور ہیں ۔