حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُسَدَّدٌ، – الْمَعْنَى – قَالاَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ خَالِدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم – قَالَ مُسَدَّدٌ – خَطَبَ يَوْمَ الْفَتْحِ – ثُمَّ اتَّفَقَا – فَقَالَ ” أَلاَ إِنَّ كُلَّ مَأْثُرَةٍ كَانَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ مِنْ دَمٍ أَوْ مَالٍ تُذْكَرُ وَتُدْعَى تَحْتَ قَدَمَىَّ إِلاَّ مَا كَانَ مِنْ سِقَايَةِ الْحَاجِّ وَسِدَانَةِ الْبَيْتِ ” . ثُمَّ قَالَ ” أَلاَ إِنَّ دِيَةَ الْخَطَإِ شِبْهِ الْعَمْدِ مَا كَانَ بِالسَّوْطِ وَالْعَصَا مِائَةٌ مِنَ الإِبِلِ مِنْهَا أَرْبَعُونَ فِي بُطُونِهَا أَوْلاَدُهَا ” .
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن خطبہ دیا آپ نے فرمایا : ” سنو ! جاہلیت کے خون یا مال کی جتنی فضیلتیں بھی تھیں جن کا ذکر کیا جاتا تھا یا جن کے دعوے کئے جاتے تھے وہ سب میرے قدموں تلے ہیں ، سوائے حاجیوں کو پانی پلانے اور بیت اللہ کی دیکھ ریکھ کے “ پھر فرمایا : ” سنو ! قتل خطا جو کوڑے یا لاٹھی سے ہوا ہو شبہ عمد ہے ، اس کی دیت سو اونٹ ہے ، جن میں چالیس اونٹنیاں ایسی ہوں گی جن کے پیٹ میں بچے ہوں گے “ ۔
Narrated Abdullah ibn Amr ibn al-‘As:
The Prophet (ﷺ) said: Musaddad’s version has: He addressed on the day of Conquest. The agreed version then goes: Beware! Every object of pride of pre-Islamic times, whether it is blood-vengeance or property, mentioned or claimed, has been put under my feet except supply of water to the pilgrims and custody of the House (the Ka’bah). He then said: Beware! The blood-wit for unintentional murder, such as is done with a whip and stick, is one hundred camels, forty of which are pregnant.