حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، وَمُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، – الْمَعْنَى – قَالاَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ الدَّانَاجُ، حَدَّثَنِي حُضَيْنُ بْنُ الْمُنْذِرِ الرَّقَاشِيُّ، – هُوَ أَبُو سَاسَانَ – قَالَ شَهِدْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ وَأُتِيَ بِالْوَلِيدِ بْنِ عُقْبَةَ فَشَهِدَ عَلَيْهِ حُمْرَانُ وَرَجُلٌ آخَرُ فَشَهِدَ أَحَدُهُمَا أَنَّهُ رَآهُ شَرِبَهَا – يَعْنِي الْخَمْرَ – وَشَهِدَ الآخَرُ أَنَّهُ رَآهُ يَتَقَيَّأُهَا فَقَالَ عُثْمَانُ إِنَّهُ لَمْ يَتَقَيَّأْهَا حَتَّى شَرِبَهَا . فَقَالَ لِعَلِيٍّ رضى الله عنه أَقِمْ عَلَيْهِ الْحَدَّ . فَقَالَ عَلِيٌّ لِلْحَسَنِ أَقِمْ عَلَيْهِ الْحَدَّ . فَقَالَ الْحَسَنُ وَلِّ حَارَّهَا مَنْ تَوَلَّى قَارَّهَا . فَقَالَ عَلِيٌّ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ أَقِمْ عَلَيْهِ الْحَدَّ . قَالَ فَأَخَذَ السَّوْطَ فَجَلَدَهُ وَعَلِيٌّ يَعُدُّ فَلَمَّا بَلَغَ أَرْبَعِينَ قَالَ حَسْبُكَ جَلَدَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم أَرْبَعِينَ – أَحْسِبُهُ قَالَ – وَجَلَدَ أَبُو بَكْرٍ أَرْبَعِينَ وَعُمَرُ ثَمَانِينَ وَكُلٌّ سُنَّةٌ وَهَذَا أَحَبُّ إِلَىَّ .
حضین بن منذر رقاشی ابوساسان کہتے ہیں کہمیں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا کہ ولید بن عقبہ کو ان کے پاس لایا گیا ، اور حمران اور ایک اور شخص نے اس کے خلاف گواہی دی ، ان میں سے ایک نے گواہی دی کہ اس نے شراب پی ہے ، اور دوسرے نے گواہی دی کہ میں نے اسے ( شراب ) قے کرتے دیکھا ہے ، تو عثمان نے کہا : جب تک پیئے گا نہیں قے نہیں کر سکتا ، پھر انہوں نے علی رضی اللہ عنہ سے کہا : تم اس پر حد قائم کرو ، تو علی نے حسن رضی اللہ عنہ سے کہا : تم اس پر حد قائم کرو ، تو حسن نے کہا : جو خلافت کی آسانیوں اور خیرات کا ذمہ دار رہا ہے وہی اس کی سختیوں اور برائیوں کا بھی ذمہ دار ہے ، پھر علی رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن جعفر سے کہا : تم اس پر حد قائم کرو ، تو انہوں نے کوڑا لے کر اسے مارنا شروع کیا ، اور علی رضی اللہ عنہ گننے لگے ، تو جب چالیس کوڑے ہوئے تو علی رضی اللہ عنہ نے کہا : بس کافی ہے ، اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چالیس کوڑے ہی مارے ہیں ، اور میرا خیال ہے انہوں نے یہ بھی کہا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی چالیس کوڑے مارے ہیں ، اور عمر رضی اللہ عنہ نے اسی ، اور سب سنت ہے ، اور یہ چالیس کوڑے مجھے زیادہ پسند ہیں ۔
Hudayn ibn al-Mundhir ar-Ruqashi, who was AbuSasan, said:
Uthman said: He could not vomit it, unless he did not drink it. He said to Ali: Inflict the prescribed punishment on him. Ali said to al-Hasan: Inflict the prescribed punishment on him.
Al-Hasan said: He who has enjoyed its pleasure should also bear its burden. So Ali said to Abdullah ibn Ja’far: Inflict the prescribed punishment on him. He took a whip and struck him with it while Ali was counting.
When he reached (struck) forty (lashes), he said: It is sufficient. The Prophet (ﷺ) gave forty lashes. I think he also said: “And AbuBakr gave forty lashes, and Uthman eighty. This is all sunnah (standard practice). And this is dearer to me.”