حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنَا صَفْوَانُ، حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَرَازِيُّ، أَنَّ قَوْمًا، مِنَ الْكَلاَعِيِّينَ سُرِقَ لَهُمْ مَتَاعٌ فَاتَّهَمُوا أُنَاسًا مِنَ الْحَاكَةِ فَأَتَوُا النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ صَاحِبَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَحَبَسَهُمْ أَيَّامًا ثُمَّ خَلَّى سَبِيلَهُمْ فَأَتَوُا النُّعْمَانَ فَقَالُوا خَلَّيْتَ سَبِيلَهُمْ بِغَيْرِ ضَرْبٍ وَلاَ امْتِحَانٍ . فَقَالَ النُّعْمَانُ مَا شِئْتُمْ إِنْ شِئْتُمْ أَنْ أَضْرِبَهُمْ فَإِنْ خَرَجَ مَتَاعُكُمْ فَذَاكَ وَإِلاَّ أَخَذْتُ مِنْ ظُهُورِكُمْ مِثْلَ مَا أَخَذْتُ مِنْ ظُهُورِهِمْ . فَقَالُوا هَذَا حُكْمُكَ فَقَالَ هَذَا حُكْمُ اللَّهِ وَحُكْمُ رَسُولِهِ صلى الله عليه وسلم . قَالَ أَبُو دَاوُدَ إِنَّمَا أَرْهَبَهُمْ بِهَذَا الْقَوْلِ أَىْ لاَ يَجِبُ الضَّرْبُ إِلاَّ بَعْدَ الاِعْتِرَافِ .
ازہر بن عبداللہ حرازی کا بیان ہے کہکلاع کے کچھ لوگوں کا مال چرایا گیا تو انہوں نے کچھ کپڑا بننے والوں پر الزام لگایا اور انہیں صحابی رسول نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کے پاس لے کر آئے ، تو آپ نے انہیں چند دنوں تک قید میں رکھا پھر چھوڑ دیا ، پھر وہ سب نعمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، اور کہا کہ آپ نے انہیں بغیر مارے اور بغیر پوچھ تاچھ کئے چھوڑ دیا ، نعمان رضی اللہ عنہ نے کہا : تم کیا چاہتے ہو اگر تمہاری یہی خواہش ہے تو میں ان کی پٹائی کرتا ہوں ، اگر تمہارا سامان ان کے پاس نکلا تو ٹھیک ہے ورنہ اتنا ہی تمہاری پٹائی ہو گی جتنا ان کو مارا تھا ، تو انہوں نے پوچھا : یہ آپ کا فیصلہ ہے ؟ نعمان رضی اللہ عنہ نے کہا : نہیں ، بلکہ یہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ ہے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اس قول سے نعمان رضی اللہ عنہ نے ڈرا دیا ، مطلب یہ ہے کہ مارنا پیٹنا اعتراف کے بعد ہی واجب ہوتا ہے ۱؎ ۔
Azhar ibn Abdullah al-Harari said:
They came to an-Nu’man and said: You have set them free without beating and investigation. An-Nu’man said: What do you want? You want me to beat them. If your goods are found with them, then it is all right; otherwise, I shall take (retaliation) from your back as I have taken from their backs. They asked: Is this your decision? He said: This is the decision of Allah and His Apostle (ﷺ).
Abu Dawud said: By this statement he frightened them ; that is, beating is not necessary except after acknowledgement.