۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

0

Markazi Anjuman Khuddam ul Quran Lahore

0Hadith Reference

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ، بِمَعْنَى إِسْنَادِ أَبِي تَوْبَةَ وَحَدِيثِهِ قَالَ عِنْدَ قَوْلِهِ ‏ “‏ مَا يَقْضِي عَنِّي ‏”‏ ‏.‏ فَسَكَتَ عَنِّي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَاغْتَمَزْتُهَا ‏.‏

اس سند سے بھی ابوتوبہ کی حدیث کے ہم معنی حدیث مروی ہے ، اس میں ہے کہجب میں نے کہا کہ نہ آپ کے پاس اتنا مال ہے اور نہ میرے پاس کہ قرضہ ادا ہو جائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے مجھے کوئی جواب نہیں دیا تو مجھے بڑی گرانی ہوئی ( کہ شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری بات پر توجہ نہیں دی ) ۔

The tradition mentioned above has also been transmitted by Mu’awiyah through a different chain of narrators to the same effect as narrated by Abu Taubah. This version has “I have nothing to pay from me. The Apostle of Allaah(ﷺ) thereupon kept silence and this displeased me.”

Scroll to Top