حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ يَهُودَ بَنِي النَّضِيرِ، وَقُرَيْظَةَ، حَارَبُوا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَجْلَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَنِي النَّضِيرِ وَأَقَرَّ قُرَيْظَةَ وَمَنَّ عَلَيْهِمْ حَتَّى حَارَبَتْ قُرَيْظَةُ بَعْدَ ذَلِكَ فَقَتَلَ رِجَالَهُمْ وَقَسَمَ نِسَاءَهُمْ وَأَوْلاَدَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ إِلاَّ بَعْضَهُمْ لَحِقُوا بِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَمَّنَهُمْ وَأَسْلَمُوا وَأَجْلَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَهُودَ الْمَدِينَةِ كُلَّهُمْ بَنِي قَيْنُقَاعَ وَهُمْ قَوْمُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلاَمٍ وَيَهُودَ بَنِي حَارِثَةَ وَكُلَّ يَهُودِيٍّ كَانَ بِالْمَدِينَةِ .
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہبنو نضیر اور بنو قریظہ کے یہودیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کی آپ نے بنو نضیر کو جلا وطن کر دیا ، اور بنو قریظہ کو رہنے دیا اور ان پر احسان فرمایا ( اس لیے کہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے معاہدہ کر لیا تھا ) یہاں تک کہ قریظہ اس کے بعد لڑے ۱؎ تو ان کے مرد مارے گئے ، ان کی عورتیں ، ان کی اولاد ، اور ان کے مال مسلمانوں میں تقسیم کر دئیے گئے ، ان میں کچھ ہی لوگ تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آ کر ملے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں امان دی ، وہ مسلمان ہو گئے ، باقی مدینہ کے سارے یہودیوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ سے نکال بھگایا ، بنو قینقاع کے یہودیوں کو بھی جو عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کی قوم سے تھے اور بنو حارثہ کے یہودیوں کو بھی اور جو کوئی بھی یہودی تھا سب کو مدینہ سے نکال باہر کیا ۔