حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ قَالَ عُمَرُ { وَمَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْهُمْ فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلاَ رِكَابٍ } . قَالَ الزُّهْرِيُّ قَالَ عُمَرُ هَذِهِ لِرَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَاصَّةً قُرَى عُرَيْنَةَ فَدَكَ وَكَذَا وَكَذَا { مَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَى فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ } وَ لِلْفُقَرَاءِ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ وَالَّذِينَ تَبَوَّءُوا الدَّارَ وَالإِيمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ . وَالَّذِينَ جَاءُوا مِنْ بَعْدِهِمْ فَاسْتَوْعَبَتْ هَذِهِ الآيَةُ النَّاسَ فَلَمْ يَبْقَ أَحَدٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ إِلاَّ لَهُ فِيهَا حَقٌّ . قَالَ أَيُّوبُ أَوْ قَالَ حَظٌّ إِلاَّ بَعْضَ مَنْ تَمْلِكُونَ مِنْ أَرِقَّائِكُمْ .
ابن شہاب زہری کہتے ہیں ( عمر رضی اللہ عنہ ) نے کہااللہ نے فرمایا : «وما أفاء الله على رسوله منهم فما أوجفتم عليه من خيل ولا ركاب» ” جو مال اللہ نے اپنے رسول کو عنایت فرمایا ، اور تم نے اس پر اپنے گھوڑے اور اونٹ نہیں دوڑائے “ ( سورۃ الحشر : ۶ ) زہری کہتے ہیں : عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : اس آیت سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے عرینہ کے چند گاؤں جیسے فدک وغیرہ خاص ہوئے ، اور دوسری آیتیں « ما أفاء الله على رسوله من أهل القرى فلله وللرسول ولذي القربى واليتامى والمساكين وابن السبيل» ” گاؤں والوں کا جو ( مال ) اللہ تعالیٰ تمہارے لڑے بھڑے بغیر اپنے رسول کے ہاتھ لگائے وہ اللہ کا ہے اور رسول کا اور قرابت والوں کا اور یتیموں ، مسکینوں کا اور مسافروں کا ہے “ ( سورۃ الحشر : ۷ ) ، اور «للفقراء الذين أخرجوا من ديارهم وأموالهم» ” ( فئی کا مال ) ان مہاجر مسکینوں کے لیے ہے جو اپنے گھروں سے اور اپنے مالوں سے نکال دئیے گئے ہیں “ ( سورۃ الحشر : ۸ ) «والذين تبوءوا الدار والإيمان من قبلهم» ” اور ( ان کے لیے ) جنہوں نے اس گھر میں ( یعنی مدینہ ) اور ایمان میں ان سے پہلے جگہ بنا لی ہے “ ( سورۃ الحشر : ۹ ) «والذين جاءوا من بعدهم» ” اور ( ان کے لیے ) جو ان کے بعد آئیں “ ( سورۃ الحشر : ۱۰ ) تو اس آیت نے تمام لوگوں کو سمیٹ لیا کوئی ایسا مسلمان باقی نہیں رہا جس کا مال فیٔ میں حق نہ ہو ۔ ایوب کہتے ہیں : یا «فيها حق» کے بجائے ، ، «فيها حظ» کہا ، سوائے بعض ان چیزوں کے جن کے تم مالک ہو ( یعنی اپنے غلاموں اور لونڈیوں کے ) ۔