حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ” مَنْ لِكَعْبِ بْنِ الأَشْرَفِ فَإِنَّهُ قَدْ آذَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ ” . فَقَامَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ فَقَالَ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَتُحِبُّ أَنْ أَقْتُلَهُ قَالَ ” نَعَمْ ” . قَالَ فَأْذَنْ لِي أَنْ أَقُولَ شَيْئًا . قَالَ ” نَعَمْ قُلْ ” . فَأَتَاهُ فَقَالَ إِنَّ هَذَا الرَّجُلَ قَدْ سَأَلَنَا الصَّدَقَةَ وَقَدْ عَنَّانَا قَالَ وَأَيْضًا لَتَمَلُّنَّهُ . قَالَ اتَّبَعْنَاهُ فَنَحْنُ نَكْرَهُ أَنْ نَدَعَهُ حَتَّى نَنْظُرَ إِلَى أَىِّ شَىْءٍ يَصِيرُ أَمْرُهُ وَقَدْ أَرَدْنَا أَنْ تُسْلِفَنَا وَسْقًا أَوْ وَسْقَيْنِ . قَالَ كَعْبٌ أَىَّ شَىْءٍ تَرْهَنُونِي قَالَ وَمَا تُرِيدُ مِنَّا قَالَ نِسَاءَكُمْ قَالُوا سُبْحَانَ اللَّهِ أَنْتَ أَجْمَلُ الْعَرَبِ نَرْهَنُكَ نِسَاءَنَا فَيَكُونُ ذَلِكَ عَارًا عَلَيْنَا . قَالَ فَتَرْهَنُونِي أَوْلاَدَكُمْ . قَالُوا سُبْحَانَ اللَّهِ يُسَبُّ ابْنُ أَحَدِنَا فَيُقَالُ رُهِنْتَ بِوَسْقٍ أَوْ وَسْقَيْنِ . قَالُوا نَرْهَنُكَ اللأْمَةَ يُرِيدُ السِّلاَحَ قَالَ نَعَمْ . فَلَمَّا أَتَاهُ نَادَاهُ فَخَرَجَ إِلَيْهِ وَهُوَ مُتَطَيِّبٌ يَنْضَخُ رَأْسُهُ فَلَمَّا أَنْ جَلَسَ إِلَيْهِ وَقَدْ كَانَ جَاءَ مَعَهُ بِنَفَرٍ ثَلاَثَةٍ أَوْ أَرْبَعَةٍ فَذَكَرُوا لَهُ قَالَ عِنْدِي فُلاَنَةُ وَهِيَ أَعْطَرُ نِسَاءِ النَّاسِ . قَالَ تَأْذَنُ لِي فَأَشُمُّ قَالَ نَعَمْ . فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِي رَأْسِهِ فَشَمَّهُ قَالَ أَعُودُ قَالَ نَعَمْ فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِي رَأْسِهِ فَلَمَّا اسْتَمْكَنَ مِنْهُ قَالَ دُونَكُمْ . فَضَرَبُوهُ حَتَّى قَتَلُوهُ .
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کون ہے جو کعب بن اشرف ۱؎ کے قتل کا بیڑا اٹھائے ؟ کیونکہ اس نے اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف پہنچائی ہے “ ، یہ سن کر محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے اور بولے : اللہ کے رسول ! میں ، کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں اس کو قتل کر دوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں “ ، محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا : پھر آپ مجھے اجازت دیجئیے کہ میں کچھ کہہ سکوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ہاں ، کہہ سکتے ہو “ ، پھر انہوں نے کعب کے پاس آ کر کہا : اس شخص ( یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) نے ہم سے صدقے مانگ مانگ کر ہماری ناک میں دم کر رکھا ہے ، کعب نے کہا : ابھی کیا ہے ؟ تم اور اکتا جاؤ گے ، اس پر انہوں نے کہا : ہم اس کی پیروی کر چکے ہیں اب یہ بھی اچھا نہیں لگتا کہ اس کا ساتھ چھوڑ دیں جب تک کہ اس کا انجام نہ دیکھ لیں کہ کیا ہوتا ہے ؟ ہم تم سے یہ چاہتے ہیں کہ ایک وسق یا دو وسق اناج ہمیں بطور قرض دے دو ، کعب نے کہا : تم اس کے عوض رہن میں میرے پاس کیا رکھو گے ؟ محمد بن مسلمہ نے کہا : تم کیا چاہتے ہو ؟ کعب نے کہا : اپنی عورتوں کو رہن رکھ دو ، انہوں نے کہا : ” سبحان الله ! “ تم عربوں میں خوبصورت ترین آدمی ہو ، اگر ہم اپنی عورتوں کو تمہارے پاس گروی رکھ دیں تو یہ ہمارے لیے عار کا سبب ہو گا ، اس نے کہا : اپنی اولاد کو رکھ دو ، انہوں نے کہا : ” سبحان الله ! “ جب ہمارا بیٹا بڑا ہو گا تو لوگ اس کو طعنہ دیں گے کہ تو ایک وسق یا دو وسق کے بدلے گروی رکھ دیا گیا تھا ، البتہ ہم اپنا ہتھیار تمہارے پاس گروی رکھ دیں گے ، کعب نے کہا ٹھیک ہے ۔ پھر جب محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کعب کے پاس گئے اور اس کو آواز دی تو وہ خوشبو لگائے ہوئے نکلا ، اس کا سر مہک رہا تھا ، محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ ابھی بیٹھے ہی تھے کہ ان کے ساتھ تین چار آدمی جو اور تھے سبھوں نے اس کی خوشبو کا ذکر شروع کر دیا ، کعب کہنے لگا کہ میرے پاس فلاں عورت ہے جو سب سے زیادہ معطر رہتی ہے ، محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا : کیا تم اجازت دیتے ہو کہ میں ( تمہارے بال ) سونگھوں ؟ اس نے کہا : ہاں ، تو محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ اس کے سر میں ڈال کر سونگھا ، پھر دوبارہ اجازت چاہی اس نے کہا : ہاں ، پھر انہوں نے اپنا ہاتھ اس کے سر پر رکھا ، پھر جب اسے مضبوطی سے پکڑ لیا تو ( اپنے ساتھیوں سے ) کہا : پکڑو اسے ، پھر ان لوگوں نے اس پر وار کیا یہاں تک کہ اسے مار ڈالا ۔