۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

0

Markazi Anjuman Khuddam ul Quran Lahore

0Hadith Reference

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِّ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، أَنَّ أَبَا رَافِعٍ، أَخْبَرَهُ قَالَ بَعَثَتْنِي قُرَيْشٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَلَمَّا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أُلْقِيَ فِي قَلْبِيَ الإِسْلاَمُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي وَاللَّهِ لاَ أَرْجِعُ إِلَيْهِمْ أَبَدًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ “‏ إِنِّي لاَ أَخِيسُ بِالْعَهْدِ وَلاَ أَحْبِسُ الْبُرُدَ وَلَكِنِ ارْجِعْ فَإِنْ كَانَ فِي نَفْسِكَ الَّذِي فِي نَفْسِكَ الآنَ فَارْجِعْ ‏”‏ ‏.‏ قَالَ فَذَهَبْتُ ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَأَسْلَمْتُ ‏.‏ قَالَ بُكَيْرٌ وَأَخْبَرَنِي أَنَّ أَبَا رَافِعٍ كَانَ قِبْطِيًّا ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ هَذَا كَانَ فِي ذَلِكَ الزَّمَانِ فَأَمَّا الْيَوْمَ فَلاَ يَصْلُحُ ‏.‏

ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہقریش نے مجھے ( صلح حدیبیہ میں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا ، جب میں نے آپ کو دیکھا تو میرے دل میں اسلام کی محبت پیدا ہو گئی ، میں نے کہا : اللہ کے رسول ! اللہ کی قسم ! میں ان کی طرف کبھی لوٹ کر نہیں جاؤں گا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں نہ تو بدعہدی کرتا ہوں اور نہ ہی قاصدوں کو گرفتار کرتا ہوں ، تم واپس جاؤ ، اگر تمہارے دل میں وہی چیز رہی جو اب ہے تو آ جانا “ ، ابورافع کہتے ہیں : میں قریش کے پاس لوٹ آیا ، پھر دوبارہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر مسلمان ہو گیا ۔ بکیر کہتے ہیں : مجھے حسن بن علی نے خبر دی ہے کہ ابورافع قبطی غلام تھے ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ اس زمانہ میں تھا اب یہ مناسب نہیں ۱؎ ۔

Narrated AbuRafi’:

The Quraysh sent me to the Messenger of Allah (ﷺ), and when I saw the Messenger of Allah (ﷺ), Islam was cast into my heart, so I said: Messenger of Allah, I swear by Allah, I shall never return to them. The Messenger of Allah (ﷺ) replied: I do not break a covenant or imprison messengers, but return, and if you feel the same as you do just now, come back. So I went away, and then came to the Prophet (ﷺ) and accepted Islam.

The narrator Bukair said: He informed me that Abu Rafi’ was a Copt.

Abu Dawud said: This was valid in those days, but today it is not valid.

Scroll to Top