حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، وَمُسَدَّدٌ، – وَالإِخْبَارُ فِي حَدِيثِ أَحْمَدَ – قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ سَمِعْتُ عَمْرًا قَالَ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ أَوْسٍ سَمِعَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم “ أَحَبُّ الصِّيَامِ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى صِيَامُ دَاوُدَ وَأَحَبُّ الصَّلاَةِ إِلَى اللَّهِ صَلاَةُ دَاوُدَ كَانَ يَنَامُ نِصْفَهُ وَيَقُومُ ثُلُثَهُ وَيَنَامُ سُدُسَهُ وَكَانَ يُفْطِرُ يَوْمًا وَيَصُومُ يَوْمًا ” .
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسندیدہ روزے داود علیہ السلام کے روزے ہیں ، اور پسندیدہ نماز بھی داود کی نماز ہے : وہ آدھی رات تک سوتے ، اور تہائی رات تک قیام کرتے ( تہجد پڑھتے ) ، پھر رات کا چھٹا حصہ سوتے ، اور ایک دن روزہ نہ رکھتے ، ایک دن رکھتے “ ۔