حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنِي أَيُّوبُ، قَالَ كَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ إِلَى أَهْلِ الْبَصْرَةِ بَلَغَنَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم . نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم زَادَ وَإِنَّ أَحْسَنَ مَا يُقَدَّرُ لَهُ إِذَا رَأَيْنَا هِلاَلَ شَعْبَانَ لِكَذَا وَكَذَا فَالصَّوْمُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ لِكَذَا وَكَذَا إِلاَّ أَنْ تَرَوُا الْهِلاَلَ قَبْلَ ذَلِكَ .
ایوب کہتے ہیں : عمر بن عبدالعزیز نے بصرہ والوں کو لکھا کہہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق معلوم ہوا ہے ۔ ۔ ۔ ، آگے اسی طرح ہے جیسے ابن عمر رضی اللہ عنہما کی اوپر والی مرفوع حدیث میں ہے البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے : ” اچھا اندازہ یہ ہے کہ جب ہم شعبان کا چاند فلاں فلاں روز دیکھیں تو روزہ ان شاءاللہ فلاں فلاں دن کا ہو گا ، ہاں اگر چاند اس سے پہلے ہی دیکھ لیں ( تو چاند دیکھنے ہی سے روزہ رکھیں ) “ ۔