حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خَالِدٍ السُّلَمِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو، – يَعْنِي الأَوْزَاعِيَّ – حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ امْرَأَةً، قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ ابْنِي هَذَا كَانَ بَطْنِي لَهُ وِعَاءً وَثَدْيِي لَهُ سِقَاءً وَحِجْرِي لَهُ حِوَاءً وَإِنَّ أَبَاهُ طَلَّقَنِي وَأَرَادَ أَنْ يَنْتَزِعَهُ مِنِّي فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم “ أَنْتِ أَحَقُّ بِهِ مَا لَمْ تَنْكِحِي ” . .
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا : اللہ کے رسول ! یہ میرا بیٹا ہے ، میرا پیٹ اس کا گھر رہا ، میری چھاتی اس کے پینے کا برتن بنی ، میری گود اس کا ٹھکانہ بنی ، اب اس کے باپ نے مجھے طلاق دے دی ہے ، اور اسے مجھ سے چھیننا چاہتا ہے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تک تو ( دوسرا ) نکاح نہیں کر لیتی اس کی تو ہی زیادہ حقدار ہے “ ۔
‘Amr b. Shu’aib on his father’s authority said that his grandfather (Abdullah ibn Amr ibn al-‘As) reported: