حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي، رَافِعِ بْنِ سِنَانٍ أَنَّهُ أَسْلَمَ وَأَبَتِ امْرَأَتُهُ أَنْ تُسْلِمَ فَأَتَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتِ ابْنَتِي وَهِيَ فَطِيمٌ أَوْ شِبْهُهُ وَقَالَ رَافِعٌ ابْنَتِي . فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ” اقْعُدْ نَاحِيَةً ” . وَقَالَ لَهَا ” اقْعُدِي نَاحِيَةً ” . قَالَ وَأَقْعَدَ الصَّبِيَّةَ بَيْنَهُمَا ثُمَّ قَالَ ” ادْعُوَاهَا ” . فَمَالَتِ الصَّبِيَّةُ إِلَى أُمِّهَا فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ” اللَّهُمَّ اهْدِهَا ” . فَمَالَتِ الصَّبِيَّةُ إِلَى أَبِيهَا فَأَخَذَهَا .
رافع بن سنان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہانہوں نے اسلام قبول کر لیا ، لیکن ان کی بیوی نے اسلام قبول کرنے سے انکار کر دیا ، اور آپ کے پاس آ کر کہنے لگی : بیٹی میری ہے ( اسے میں اپنے پاس رکھوں گی ) اس کا دودھ چھوٹ چکا تھا ، یا چھوٹنے والا تھا ، اور رافع نے کہا کہ بیٹی میری ہے ( اسے میں اپنے پاس رکھوں گا ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رافع کو ایک طرف اور عورت کو دوسری طرف بیٹھنے کے لیے فرمایا ، اور بچی کو درمیان میں بٹھا دیا ، پھر دونوں کو اپنی اپنی جانب بلانے کے لیے کہا بچی ماں کی طرف مائل ہوئی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ اسے ہدایت دے “ ، چنانچہ بچی اپنے باپ کی طرف مائل ہو گئی تو انہوں نے اسے لے لیا ۱؎ ۔
‘Abd al-Hamid ibn Ja’far reported from his father on the authority of his grandfather Rafi’ ibn Sinan that he (Rafi’ ibn Sinan) embraced Islam and his wife refused to embrace Islam. She came to the Prophet (ﷺ) and said: