حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي أَبَانُ، – يَعْنِي ابْنَ صَالِحٍ – عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، قَالَ أَصَابَنِي هَوَامُّ فِي رَأْسِي وَأَنَا مَعَ، رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ حَتَّى تَخَوَّفْتُ عَلَى بَصَرِي فَأَنْزَلَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى { فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ } الآيَةَ فَدَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لِي ” احْلِقْ رَأْسَكَ وَصُمْ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ فَرَقًا مِنْ زَبِيبٍ أَوِ انْسُكْ شَاةً ” . فَحَلَقْتُ رَأْسِي ثُمَّ نَسَكْتُ .
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہحدیبیہ کے سال میرے سر میں جوئیں پڑ گئیں ، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا یہاں تک کہ مجھے اپنی بینائی جانے کا خوف ہوا تو اللہ تعالیٰ نے میرے سلسلے میں «فمن كان منكم مريضا أو به أذى من رأسه» کی آیت نازل فرمائی ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور مجھ سے فرمایا : ” تم اپنا سر منڈوا لو اور تین دن کے روزے رکھو ، یا چھ مسکینوں کو ایک فرق ۱؎ منقٰی کھلاؤ ، یا پھر ایک بکری ذبح کرو “ چنانچہ میں نے اپنا سر منڈوایا پھر ایک بکری کی قربانی دے دی ۔