۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

0

Markazi Anjuman Khuddam ul Quran Lahore

0Hadith Reference

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، – يَعْنِي الإِسْكَنْدَرَانِيَّ الْقَارِيَّ – عَنْ عَمْرٍو، عَنِ الْمُطَّلِبِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ “‏ صَيْدُ الْبَرِّ لَكُمْ حَلاَلٌ مَا لَمْ تَصِيدُوهُ أَوْ يُصَدْ لَكُمْ ‏”‏ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ إِذَا تَنَازَعَ الْخَبَرَانِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يُنْظَرُ بِمَا أَخَذَ بِهِ أَصْحَابُهُ ‏.‏

جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہمیں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا : ” خشکی کا شکار تمہارے لیے اس وقت حلال ہے جب تم خود اس کا شکار نہ کرو اور نہ تمہارے لیے اس کا شکار کیا جائے “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : جب دو روایتیں متعارض ہوں تو دیکھا جائے گا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا عمل کس کے موافق ہے ۔

Narrated Jabir ibn Abdullah:

I heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: The game of the land is lawful for you (when you are wearing ihram) as long as you do not hunt it or have it hunted on your behalf.

Abu Dawud said: When two traditions from the Prophet (ﷺ) conflict, one should see which of them was followed by his Companions.

Scroll to Top