حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْفُرَاتِ، – يَعْنِي أَبَا مَسْعُودٍ الرَّازِيَّ – وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُخَرِّمِيُّ – وَهَذَا لَفْظُهُ – قَالاَ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، عَنْ وَرْقَاءَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ كَانُوا يَحُجُّونَ وَلاَ يَتَزَوَّدُونَ – قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ كَانَ أَهْلُ الْيَمَنِ أَوْ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ يَحُجُّونَ وَلاَ يَتَزَوَّدُونَ – وَيَقُولُونَ نَحْنُ الْمُتَوَكِّلُونَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ { وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى } الآيَةَ .
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہلوگ حج کو جاتے اور زاد راہ نہیں لے جاتے ۔ ابومسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اہل یمن یا اہل یمن میں سے کچھ لوگ حج کو جاتے اور زاد راہ نہیں لیتے اور کہتے : ہم متوکل ( اللہ پر بھروسہ کرنے والے ) ہیں تو اللہ نے آیت کریمہ «وتزودوا فإن خير الزاد التقوى» ۱؎ ( زاد راہ ساتھ لے لو اس لیے کہ بہترین زاد راہ یہ ہے کہ آدمی سوال سے بچے ) نازل فرمائی ۔