حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ، ح وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، – وَهَذَا حَدِيثُ أَبِي كَامِلٍ – عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ هِلاَلٍ الْعَبْسِيُّ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ جَاءَ نَاسٌ – يَعْنِي مِنَ الأَعْرَابِ – إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالُوا إِنَّ نَاسًا مِنَ الْمُصَدِّقِينَ يَأْتُونَا فَيَظْلِمُونَا . قَالَ فَقَالَ ” أَرْضُوا مُصَدِّقِيكُمْ ” . قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَإِنْ ظَلَمُونَا قَالَ ” أَرْضُوا مُصَدِّقِيكُمْ ” . زَادَ عُثْمَانُ ” وَإِنْ ظُلِمْتُمْ ” . قَالَ أَبُو كَامِلٍ فِي حَدِيثِهِ قَالَ جَرِيرٌ مَا صَدَرَ عَنِّي مُصَدِّقٌ بَعْدَ مَا سَمِعْتُ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلاَّ وَهُوَ عَنِّي رَاضٍ .
جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہکچھ لوگ یعنی کچھ دیہاتی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے : صدقہ و زکاۃ وصول کرنے والوں میں سے بعض لوگ ہمارے پاس آتے ہیں اور ہم پر زیادتی کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اپنے مصدقین کو راضی کرو “ ، انہوں نے پوچھا : اگرچہ وہ ہم پر ظلم کریں ، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے فرمایا : ” تم اپنے مصدقین کو راضی کرو “ ، عثمان کی روایت میں اتنا زائد ہے ” اگرچہ وہ تم پر ظلم کریں “ ۔ ابوکامل اپنی حدیث میں کہتے ہیں : جریر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی ، اس کے بعد سے میرے پاس جو بھی مصدق آیا ، مجھ سے خوش ہو کر ہی واپس گیا ۔
The version of ‘Uthman adds “Even if you are wronged”. Abu Kamil said in this version “Jarir said No collector of zakat returned from me since I heard this from the Messenger of Allah(ﷺ), but he was pleased with me.”