حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَلِيٍّ الأَزْدِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُبْشِيٍّ الْخَثْعَمِيِّ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم سُئِلَ أَىُّ الأَعْمَالِ أَفْضَلُ قَالَ ” طُولُ الْقِيَامِ ” . قِيلَ فَأَىُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ قَالَ ” جُهْدُ الْمُقِلِّ ” . قِيلَ فَأَىُّ الْهِجْرَةِ أَفْضَلُ قَالَ ” مَنْ هَجَرَ مَا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ ” . قِيلَ فَأَىُّ الْجِهَادِ أَفْضَلُ قَالَ ” مَنْ جَاهَدَ الْمُشْرِكِينَ بِمَالِهِ وَنَفْسِهِ ” . قِيلَ فَأَىُّ الْقَتْلِ أَشْرَفُ قَالَ ” مَنْ أُهْرِيقَ دَمُهُ وَعُقِرَ جَوَادُهُ ” .
عبداللہ بن حبشی خثعمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا : کون سا عمل افضل ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” نماز میں دیر تک کھڑے رہنا “ ، پھر پوچھا گیا : کون سا صدقہ افضل ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کم مال والا محنت کی کمائی میں سے جو صدقہ دے “ ، پھر پوچھا گیا : کون سی ہجرت افضل ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس شخص کی ہجرت جو ان چیزوں کو چھوڑ دے جنہیں اللہ نے اس پر حرام کیا ہے “ ، پھر پوچھا گیا : کون سا جہاد افضل ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس شخص کا جہاد جس نے اپنی جان و مال کے ساتھ مشرکین سے جہاد کیا ہو “ ، پھر پوچھا گیا : کون سا قتل افضل ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ کی راہ میں جس کا خون بہایا گیا ہو اور جس کے گھوڑے کے ہاتھ پاؤں کاٹ لیے گئے ہوں “ ۔