حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، وَابْنُ، عَبْدَةَ – فِي آخَرِينَ وَهَذَا لَفْظُ ابْنِ عَبْدَةَ – أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا، دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم جَالِسٌ فَصَلَّى – قَالَ ابْنُ عَبْدَةَ – رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي وَمُحَمَّدًا وَلاَ تَرْحَمْ مَعَنَا أَحَدًا . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ” لَقَدْ تَحَجَّرْتَ وَاسِعًا ” . ثُمَّ لَمْ يَلْبَثْ أَنْ بَالَ فِي نَاحِيةِ الْمَسْجِدِ فَأَسْرَعَ النَّاسُ إِلَيْهِ فَنَهَاهُمُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم وَقَالَ ” إِنَّمَا بُعِثْتُمْ مُيَسِّرِينَ وَلَمْ تُبْعَثُوا مُعَسِّرِينَ صُبُّوا عَلَيْهِ سَجْلاً مِنْ مَاءٍ ” . أَوْ قَالَ ” ذَنُوبًا مِنْ مَاءٍ ” .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہایک اعرابی مسجد میں آیا ، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے ، اس نے نماز پڑھی ( ابن عبدہ نے اپنی روایت میں کہا : اس نے دو رکعت نماز پڑھی ) ، پھر کہا : ” اے اللہ ! مجھ پر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر رحم کر اور ہمارے ساتھ کسی اور پر رحم نہ کرنا “ ، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم نے اللہ کی وسیع رحمت کو تنگ اور محدود کر دیا “ ، پھر زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی کہ مسجد کے ایک کونے میں وہ پیشاب کرنے لگا تو لوگ اس کی طرف دوڑے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اعرابی کو ڈانٹنے سے منع کیا اور فرمایا : ” تم لوگ لوگوں پر آسانی کرنے کے لیے بھیجے گئے ہو ، سختی کرنے کے لیے نہیں ، اس پر ایک ڈول پانی ڈال دو “ ۔