۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

0

Markazi Anjuman Khuddam ul Quran Lahore

0Hadith Reference

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ الْوَاسِطِيُّ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، ح وَحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، – يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيَّ – عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ بُجْدَانَ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ اجْتَمَعَتْ غُنَيْمَةٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏”‏ يَا أَبَا ذَرٍّ ابْدُ فِيهَا ‏”‏ ‏.‏ فَبَدَوْتُ إِلَى الرَّبَذَةِ فَكَانَتْ تُصِيبُنِي الْجَنَابَةُ فَأَمْكُثُ الْخَمْسَ وَالسِّتَّ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏”‏ أَبُو ذَرٍّ ‏”‏ ‏.‏ فَسَكَتُّ فَقَالَ ‏”‏ ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ أَبَا ذَرٍّ لأُمِّكَ الْوَيْلُ ‏”‏ ‏.‏ فَدَعَا لِي بِجَارِيَةٍ سَوْدَاءَ فَجَاءَتْ بِعُسٍّ فِيهِ مَاءٌ فَسَتَرَتْنِي بِثَوْبٍ وَاسْتَتَرْتُ بِالرَّاحِلَةِ وَاغْتَسَلْتُ فَكَأَنِّي أَلْقَيْتُ عَنِّي جَبَلاً فَقَالَ ‏”‏ الصَّعِيدُ الطَّيِّبُ وَضُوءُ الْمُسْلِمِ وَلَوْ إِلَى عَشْرِ سِنِينَ فَإِذَا وَجَدْتَ الْمَاءَ فَأَمِسَّهُ جِلْدَكَ فَإِنَّ ذَلِكَ خَيْرٌ ‏”‏ ‏.‏ وَقَالَ مُسَدَّدٌ غُنَيْمَةٌ مِنَ الصَّدَقَةِ ‏.‏ قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَحَدِيثُ عَمْرٍو أَتَمُّ ‏.‏

ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ بکریاں جمع ہو گئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” ابوذر ! تم ان بکریوں کو جنگل میں لے جاؤ “ ، چنانچہ میں انہیں ہانک کر مقام ربذہ کی طرف لے گیا ، وہاں مجھے جنابت لاحق ہو جایا کرتی تھی اور میں پانچ پانچ چھ چھ روز یوں ہی رہا کرتا ، پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، آپ نے فرمایا : ” ابوذر ! “ ، میں خاموش رہا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تمہاری ماں تم پر روئے ، ابوذر ! تمہاری ماں کے لیے بربادی ہو ۱؎ “ ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے ایک کالی لونڈی بلائی ، وہ ایک بڑے پیالے میں پانی لے کر آئی ، اس نے میرے لیے ایک کپڑے کی آڑ کی اور ( دوسری طرف سے ) میں نے اونٹ کی آڑ کی اور غسل کیا ، ( غسل کر کے مجھے ایسا لگا ) گویا کہ میں نے اپنے اوپر سے کوئی پہاڑ ہٹا دیا ہو ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” پاک مٹی مسلمان کے لیے وضو ( کے پانی کے حکم میں ) ہے ، اگرچہ دس برس تک پانی نہ پائے ، جب تم پانی پا جاؤ تو اس کو اپنے بدن پر بہا لو ، اس لیے کہ یہ بہتر ہے “ ۔ مسدد کی روایت میں «غنيمة من الصدقة» کے الفاظ ہیں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : عمرو کی روایت زیادہ کامل ہے ۔

Abu Dharr said:

A few goats got collected with the Messenger of Allah (ﷺ). He said: Abu Dharr, drive them to the wood. I drove them to Rabadhah (a place near Medina). I would have sexual defilement (during my stay there) and I would remain (in this condition) for five or six days. Then I came to the Messenger of Allah (ﷺ). He said: O Abu Dharr. I kept silence. He then said: May your mother bereave you, Abu Dharr: woe be to your mother. He then called a black slave-girl for me. She brought a vessel which contained water. She then concealed me by drawing a curtain and I concealed myself behind a she-camel, and took a bath. I felt as if I had thrown away a mountain from me. He said: Clean earth is a means for ablution for a Muslim, even for ten years (he does not find water); but when you find water, you should make it touch your skin, for that is better.

The version of Musaddad has: “the goats (were collected) from the alms,” and the tradition reported by ‘Amr is complete.

Scroll to Top