حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، – يَعْنِي ابْنَ أَبِي صَالِحٍ – عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ، قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ اسْتُحِيضَتْ مُنْذُ كَذَا وَكَذَا فَلَمْ تُصَلِّ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم “ سُبْحَانَ اللَّهِ إِنَّ هَذَا مِنَ الشَّيْطَانِ لِتَجْلِسْ فِي مِرْكَنٍ فَإِذَا رَأَتْ صُفْرَةً فَوْقَ الْمَاءِ فَلْتَغْتَسِلْ لِلظُّهْرِ وَالْعَصْرِ غُسْلاً وَاحِدًا وَتَغْتَسِلْ لِلْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ غُسْلاً وَاحِدًا وَتَغْتَسِلْ لِلْفَجْرِ غُسْلاً وَاحِدًا وَتَتَوَضَّأْ فِيمَا بَيْنَ ذَلِكَ ” . قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ مُجَاهِدٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ لَمَّا اشْتَدَّ عَلَيْهَا الْغُسْلُ أَمَرَهَا أَنْ تَجْمَعَ بَيْنَ الصَّلاَتَيْنِ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ وَرَوَاهُ إِبْرَاهِيمُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَهُوَ قَوْلُ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ .
اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہمیں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! فاطمہ بنت ابی حبیش کو اتنے اتنے دنوں سے ( خون ) استحاضہ آ رہا ہے تو وہ نماز نہیں پڑھ سکی ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سبحان اللہ ! یہ تو شیطان کی طرف سے ہے ، وہ ایک لگن میں بیٹھ جائیں ، جب پانی پر زردی دیکھیں تو ظہر و عصر کے لیے ایک غسل ، مغرب و عشاء کے لیے ایک غسل ، اور فجر کے لیے ایک غسل کریں ، اور اس کے درمیان میں وضو کرتی رہیں “ ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اسے مجاہد نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے ، اس میں ہے کہ جب ان پر غسل کرنا دشوار ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک غسل سے دو نمازیں جمع کرنے کا حکم دیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : نیز اسے ابراہیم نے بھی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے اور یہی قول ابراہیم نخعی اور عبداللہ بن شداد کا بھی ہے ۔
Asma’ daughter of ‘Unais said:
Abu Dawud said: Mujahid reported on the authority of Ibn ‘Abbas: When bathing became hard for her, he commanded her to combine the two prayers.
Abu Dawud said: Ibrahim reported it from Ibn ‘Abbas. This is also the view of Ibrahim al-Nakha’i and ‘Abd Allah b. Shaddad.