حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ وَرْدَانَ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنِي حُمْرَانُ، قَالَ رَأَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ تَوَضَّأَ . فَذَكَرَ نَحْوَهُ وَلَمْ يَذْكُرِ الْمَضْمَضَةَ وَالاِسْتِنْشَاقَ وَقَالَ فِيهِ وَمَسَحَ رَأْسَهُ ثَلاَثًا ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ ثَلاَثًا ثُمَّ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَوَضَّأَ هَكَذَا وَقَالَ “ مَنْ تَوَضَّأَ دُونَ هَذَا كَفَاهُ ” . وَلَمْ يَذْكُرْ أَمْرَ الصَّلاَةِ .
حمران کہتے ہیں کہمیں نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو وضو کرتے دیکھا ، پھر اس حدیث کے ہم معنی حدیث ذکر کی ، مگر کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کا تذکرہ نہیں کیا ، حمران نے کہا : عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے سر کا تین بار مسح کیا پھر دونوں پاؤں تین بار دھوئے ، اس کے بعد آپ نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص اس سے کم وضو کرے گا ( یعنی ایک ایک یا دو دو بار اعضاء دھوئے گا ) تو بھی کافی ہے “ ، یہاں پر نماز کے معاملہ کا ذکر نہیں کیا ۔