۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

0

Markazi Anjuman Khuddam ul Quran Lahore

0Book 88

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، قَالَ لَمَّا خَلَعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ يَزِيدَ بْنَ مُعَاوِيَةَ جَمَعَ ابْنُ عُمَرَ حَشَمَهُ وَوَلَدَهُ فَقَالَ إِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ “‏ يُنْصَبُ لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ‏”‏‏.‏ وَإِنَّا قَدْ بَايَعْنَا هَذَا الرَّجُلَ عَلَى بَيْعِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَإِنِّي لاَ أَعْلَمُ غَدْرًا أَعْظَمَ مِنْ أَنْ يُبَايَعَ رَجُلٌ عَلَى بَيْعِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ، ثُمَّ يُنْصَبُ لَهُ الْقِتَالُ، وَإِنِّي لاَ أَعْلَمُ أَحَدًا مِنْكُمْ خَلَعَهُ، وَلاَ بَايَعَ فِي هَذَا الأَمْرِ، إِلاَّ كَانَتِ الْفَيْصَلَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ‏.‏

ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے شہاب نے بیان کیا ان سے جوف نے بیان کیا ‘ ان سے ابومنہال نے بیان کیا کہجب عبداللہ بن زیاد اور مروان شام میں تھے اور ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے مکہ میں اور خوارج نے بصرہ میں قبضہ کر لیا تھا تو میں اپنے والد کے ساتھ حضرت ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کے پاس گیا ۔ جب ہم ان کے گھر میں ایک کمرہ کے سایہ میں بیٹھے ہوئے تھے جو بانس کا بنا ہوا تھا ‘ ہم ان کے پاس بیٹھ گئے اور میرے والد ان سے بات کرنے لگے اور کہا اے ابوبرزہ ! آپ نہیں دیکھتے لوگ کن باتوں میں آفت اور اختلاف میں الجھ گئے ہیں ۔ میں نے ان کی زبان سے سب سے پہلی بات یہ سنی کہ میں جو ان قریش کے لوگوں سے ناراض ہوں تو محض اللہ کی رضامندی کے لیے ‘ اللہ میرا اجر دینے والا ہے ۔ عرب کے لوگو ! تم جانتے ہو پہلے تمہارا کیا حال تھا تم گمراہی میں گرفتار تھے ‘ اللہ نے اسلام کے ذریعہ اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ تم کو اس بری حالت سے نجات دی ۔ یہاں تک کہ تم اس رتبہ کو پہنچے ۔ ( دنیا کے حاکم اور سردار بن گئے ) پھر اسی دنیا نے تم کو خراب کر دیا ۔ دیکھو ! یہ شخص جو شام میں حاکم بن بیٹھا ہے یعنی مروان دنیا کے لئے لڑ رہا ہے ۔ یہ لوگ جو تمہارے سامنے ہیں ۔ ( خوارج ) واللہ ! یہ لوگ صرف دنیا کے لیے لڑرہے ہیں اور وہ جو مکہ میں ہے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما واللہ ! وہ بھی صرف دنیا کے لیے لڑ رہا ہے ۔

Narrated Nafi`:

When the people of Medina dethroned Yazid bin Muawiya, Ibn `Umar gathered his special friends and children and said, “I heard the Prophet (ﷺ) saying, ‘A flag will be fixed for every betrayer on the Day of Resurrection,’ and we have given the oath of allegiance to this person (Yazid) in accordance with the conditions enjoined by Allah and His Apostle and I do not know of anything more faithless than fighting a person who has been given the oath of allegiance in accordance with the conditions enjoined by Allah and His Apostle , and if ever I learn that any person among you has agreed to dethrone Yazid, by giving the oath of allegiance (to somebody else) then there will be separation between him and me.”

USC-MSA web (English) reference

Scroll to Top