۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

0

Markazi Anjuman Khuddam ul Quran Lahore

0Book 88

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ رَجُلٍ، لَمْ يُسَمِّهِ عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ خَرَجْتُ بِسِلاَحِي لَيَالِيَ الْفِتْنَةِ فَاسْتَقْبَلَنِي أَبُو بَكْرَةَ فَقَالَ أَيْنَ تُرِيدُ قُلْتُ أُرِيدُ نُصْرَةَ ابْنِ عَمِّ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم‏.‏ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏”‏ إِذَا تَوَاجَهَ الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا فَكِلاَهُمَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ ‏”‏‏.‏ قِيلَ فَهَذَا الْقَاتِلُ، فَمَا بَالُ الْمَقْتُولِ قَالَ ‏”‏ إِنَّهُ أَرَادَ قَتْلَ صَاحِبِهِ ‏”‏‏.‏ قَالَ حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ فَذَكَرْتُ هَذَا الْحَدِيثَ لأَيُّوبَ وَيُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ يُحَدِّثَانِي بِهِ فَقَالاَ إِنَّمَا رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ الْحَسَنُ عَنِ الأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ‏.‏ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ بِهَذَا‏.‏

وَقَالَ مُؤَمَّلٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، وَيُونُسُ، وَهِشَامٌ، وَمُعَلَّى بْنُ زِيَادٍ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنِ الأَحْنَفِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏ وَرَوَاهُ مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ‏.‏ وَرَوَاهُ بَكَّارُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ‏.‏

وَقَالَ غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏ وَلَمْ يَرْفَعْهُ سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ‏.‏

ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا ‘انہوں نے کہا ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے ابن جابر نے بیان کیا ‘ ان سے بسر بن عبیداللہ الخصرمی نے بیان کیا ‘ انہوں نے ابو ادریس خولانی سے سنا ‘ انہوں نے حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ سے سنا ‘انہوں نے بیان کیا کہلوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر کے بارے میں پوچھا کرتے تھے لیکن میں شر کے بارے میں پوچھتا تھا ۔ اس خوف سے کہ کہیں میری زندگی میں ہی شر نہ پیدا ہو جائے ۔ میں نے پوچھا یا رسول اللہ ! ہم جاہلیت اور شر کے دور میں تھے پھر اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس خیر سے نوازا تو کیا اس خیر کے بعد پھر شر کا زمانہ ہو گا ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں ۔ میں نے پوچھا کیا اس شر کے بعد پھر خیر کا زمانہ آئے گا ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں لیکن اس خیر میں کمزوری ہو گی ۔ میں نے پوچھا کہ کمزوری کیا ہو گی ؟ فرمایا کہ کچھ لوگ ہوں گے جو میرے طریقے کے خلاف چلیں گے ‘ ان کی بعض باتیں اچھی ہوں گی لیکن بعض میں تم برائی دیکھو گے ۔ میں نے پوچھا کیا پھر دور خیر کے بعد دور شر آئے گا ؟ فرمایا کہ ہاں جہنم کی طرف سے بلانے والے دوزخ کے دروازوں پر کھڑے ہوں گے ‘ جو ان کی بات مان لے گا وہ اس میں انہیں جھٹک دیں گے ۔ میں نے کہا یا رسول اللہ ! ان کی کچھ صفت بیان کیجئے ۔ فرمایا کہ وہ ہمارے ہی جیسے ہوں گے اور ہماری ہی زبان عربی بولیں گے ۔ میں نے پوچھا پھر اگر میں نے وہ زمانہ پایا تو آپ مجھے ان کے بارے میں کیا حکم دیتے ہیں ؟ فرمایا کہ مسلمانوں کی جماعت اور ان کے امام کے ساتھ رہنا ۔ میں نے کہا کہ اگر مسلمانوں کی جماعت نہ ہو اور نہ ان کا کوئی امام ہو ؟ فرمایا کہ پھر ان تمام لوگوں سے الگ ہو کر خواہ تمہیں جنگل میں جا کر درختوں کی جڑیں چبانی پڑیں یہاں تک کہ اسی حالت میں تمہاری موت آ جائے ۔

Narrated Al-Hasan:

(Al-Ahnaf said:) I went out carrying my arms during the nights of the affliction (i.e. the war between `Ali and `Aisha) and Abu Bakra met me and asked, “Where are you going?” I replied, “I intend to help the cousin of Allah’s Messenger (ﷺ) (i.e.,`Ali).” Abu Bakra said, “Allah’s Messenger (ﷺ) said, ‘If two Muslims take out their swords to fight each other, then both of them will be from amongst the people of the Hell- Fire.’ It was said to the Prophet, ‘It is alright for the killer but what about the killed one?’ He replied, ‘The killed one had the intention to kill his opponent.'” (See Hadith No. 30, Vol. 1)

Narrated Al-Ahnaf:

Abu Bakra said: The Prophet (ﷺ) said (as above, 204).

USC-MSA web (English) reference

Scroll to Top