۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

0

Markazi Anjuman Khuddam ul Quran Lahore

0Book 83

حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ خَرَجَتْ جَارِيَةٌ عَلَيْهَا أَوْضَاحٌ بِالْمَدِينَةِ ـ قَالَ ـ فَرَمَاهَا يَهُودِيٌّ بِحَجَرٍ ـ قَالَ ـ فَجِيءَ بِهَا إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَبِهَا رَمَقٌ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏”‏ فُلاَنٌ قَتَلَكِ ‏”‏‏.‏ فَرَفَعَتْ رَأْسَهَا، فَأَعَادَ عَلَيْهَا قَالَ ‏”‏ فُلاَنٌ قَتَلَكِ ‏”‏‏.‏ فَرَفَعَتْ رَأْسَهَا، فَقَالَ لَهَا فِي الثَّالِثَةِ ‏”‏ فُلاَنٌ قَتَلَكِ ‏”‏‏.‏ فَخَفَضَتْ رَأْسَهَا، فَدَعَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَتَلَهُ بَيْنَ الْحَجَرَيْنِ‏.‏

ہم سے محمد نے بیان کیا ، کہا ہم کو عبداللہ بن ادریس نے خبر دی ، انہیں شعبہ نے ، انہیں ہشام بن زید بن انس نے ، ان سے ان کے دادا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہمدینہ منورہ میں ایک لڑکی چاندی کے زیور پہنے باہرنکلی ۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر اسے ایک یہودی نے پتھر سے ماردیا ۔ جب اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا تو ابھی اس میں جان باقی تھی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تمہیں فلاں نے مارا ہے ؟ اس پر لڑکی نے اپنا سر ( انکار کے لیے ) اٹھایا پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تمہیں فلاں نے مارا ہے ؟ لڑکی نے اس پر بھی اٹھایا ۔ تیسری مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا فلاں نے تمہیں مارا ہے ؟ اس پر لڑکی نے اپنا سر نیچے کی طرف جھکالیا ( اقرار کرتے ہوئے جھکالیا ) چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو بلایا تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو پتھروں سے کچل کر اسے قتل کرایا ۔

Narrated Anas bin Malik:

A girl wearing ornaments, went out at Medina. Somebody struck her with a stone. She was brought to the Prophet (ﷺ) while she was still alive. Allah’s Messenger (ﷺ) asked her, “Did such-and-such a person strike you?” She raised her head, denying that. He asked her a second time, saying, “Did so-and-so strike you?” She raised her head, denying that. He said for the third time, “Did so-and-so strike you?” She lowered her head, agreeing. Allah’s Messenger (ﷺ) then sent for the killer and killed him between two stones.

USC-MSA web (English) reference

Scroll to Top