۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

0

Markazi Anjuman Khuddam ul Quran Lahore

0Book 82

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ أَقْبَلَ أَبُو بَكْرٍ فَلَكَزَنِي لَكْزَةً شَدِيدَةً وَقَالَ حَبَسْتِ النَّاسَ فِي قِلاَدَةٍ‏.‏ فَبِي الْمَوْتُ لِمَكَانِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَدْ أَوْجَعَنِي‏.‏ نَحْوَهُ‏.‏ لَكَزَ وَوَكَزَ وَاحِدٌ.

ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا ، انہیں عمرو نے خبر دی ، ان سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور زور سے میرے ایک سخت گھونسا لگایا اور کہا تو نے ایک ہار کے لیے سب لوگوں کو روک دیا ۔ میں اس سے مرنے کے قریب ہو گئی اس قدر مجھ کو درد ہوا لیکن کیا کر سکتی تھی کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سرمبارک میری ران پر تھا ۔ لکز اور وکز کے ایک ہی معنی ہیں ۔

Narrated Aisha:

Abu Bakr came to towards me and struck me violently with his fist and said, “You have detained the people because of your necklace.” But I remained motionless as if I was dead lest I should awake Allah’s Messenger (ﷺ) although that hit was very painful.

USC-MSA web (English) reference

Scroll to Top