حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ يَقُولُ أَوَلَمْ يُنْهَوْا عَنِ النَّذْرِ إِنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ “ إِنَّ النَّذْرَ لاَ يُقَدِّمُ شَيْئًا، وَلاَ يُؤَخِّرُ، وَإِنَّمَا يُسْتَخْرَجُ بِالنَّذْرِ مِنَ الْبَخِيلِ ”.
ہم سے یحییٰ بن صالح نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے فلیح بن سلیمان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے سعید بن الحارث نے بیان کیا ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا ،انہوں نے کہا ، کیا لوگوں کو نذر سے منع نہیں کیا گیا ہے ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نذر کسی چیز کو نہ آگے کر سکتی ہے نہ پیچھے ، البتہ اس کے ذریعہ بخیل کا مال نکالا جا سکتا ہے ۔
Narrated Sa`id bin Al-Harith:
that he heard Ibn `Umar saying, “Weren’t people forbidden to make vows?” The Prophet (ﷺ) said, ‘A vow neither hastens nor delays anything, but by the making of vows, some of the wealth of a miser is taken out.”
USC-MSA web (English) reference