۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

۞خَيْرُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ اْلقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ ۞

0

Markazi Anjuman Khuddam ul Quran Lahore

0Book 73

حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، سَمِعْتُ ابْنَ الْمُنْكَدِرِ، سَمِعَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ أَخْبَرَتْهُ قَالَتِ، اسْتَأْذَنَ رَجُلٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ ‏”‏ ائْذَنُوا لَهُ بِئْسَ، أَخُو الْعَشِيرَةِ أَوِ ابْنُ الْعَشِيرَةِ ‏”‏‏.‏ فَلَمَّا دَخَلَ أَلاَنَ لَهُ الْكَلاَمَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قُلْتَ الَّذِي قُلْتَ، ثُمَّ أَلَنْتَ لَهُ الْكَلاَمَ قَالَ ‏”‏ أَىْ عَائِشَةُ، إِنَّ شَرَّ النَّاسِ مَنْ تَرَكَهُ النَّاسُ ـ أَوْ وَدَعَهُ النَّاسُ ـ اتِّقَاءَ فُحْشِهِ ‏”‏‏.‏

ہم سے صدقہ بن فضل نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو سفیان بن عیینہ نے خبر دی ، انہوں نے محمد بن منکدر سے سنا ، انہوں نے عروہ بن زبیر سے سنا اور انہیں ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی ، انہوں نے بیان کیا کہایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اندر آنے کی اجازت چاہی تو آپ نے فرمایا کہ اسے اجازت دے دو ، فلاں قبیلہ کا یہ برا آدمی ہے جب وہ شخص اندر آیا تو آپ نے اس کے ساتھ بڑی نرمی سے گفتگو کی ، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ! آپ کو اس کے متعلق جو کچھ کہنا تھا وہ ارشاد فرمایا اور پھر اس کے ساتھ نرم گفتگو کی ۔ آپ نے فرمایا ، عائشہ ! وہ بدترین آدمی ہے جسے اس کی بدکلامی کے ڈر سے لوگ چھوڑ دیں ۔

Narrated `Aisha:

A man asked permission to enter upon Allah’s Messenger (ﷺ). The Prophet (ﷺ) said, “Admit him. What an evil brother of his people or a son of his people.” But when the man entered, the Prophet (ﷺ) spoke to him in a very polite manner. (And when that person left) I said, “O Allah’s Messenger (ﷺ)! You had said what you had said, yet you spoke to him in a very polite manner?” The Prophet (ﷺ) said, “O `Aisha! The worst people are those whom the people desert or leave in order to save themselves from their dirty language or from their transgression.”

USC-MSA web (English) reference

Scroll to Top